بھٹکل 28؍جنوری (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کی جانب سے بھی ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔
کانگریس پارٹی میں واپسی: اس امکان کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی سے ٹکٹ نہ دئے جانے پر جے ڈی نائک پارٹی سے ناراض دکھائی دے رہے تھے اور پارٹی کے کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں ہورہے تھے۔جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ بی جے پی سے بدظن ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف پچھلے چند مہینوں سے وہ ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے سے بھی مسلسل رابطے میں تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں آر وی دیشپانڈے نے سوموار کے دن سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا سے بھی بات چیت کی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ مقامی کانگریسی لیڈروں سے منظوری ملنے کے بعد جے ڈی نائک نے کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ کو دوبارہ کانگریس میں اپنی شمولیت کے لئے درخواست بھیج دی ہے۔اب کے پی سی سی کی طرف سے اجازت ملتے ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی کی تاریخ اور مقام کا تعین کیاجانے والا ہے۔
پارلیمانی امیدوار کون؟: کانگریس پارٹی کی طرف سے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ضلع شمالی کینرا میں ہلچل اور تیاری تو شروع ہوگئی ہے ، مگر پارٹی کا امیدوار کون ہوگا اس تعلق سے ابھی کوئی واضح اشارہ پارٹی کی جانب سے نہیں مل رہا ہے۔کہاجاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کی طرف سے دیشپانڈے کو میدان میں اترنے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ،جبکہ خود دیشپانڈے اس سلسلے میں ابھی کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔اس کے علاوہ سابقہ پارلیمانی انتخاب میں شکست کا منھ دیکھنے والے پرشانت دیشپانڈے دوبارہ میدان میں اترنے کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف مارگریٹ آلوا کے فرزند نویدیت آلوا کے بارے میں سمجھاجاتا ہے کہ اگر موقع ملے تو وہ میدان میں اتر کرقسمت آزمانے کے لئے تیار ہیں، لیکن کانگریس کمیٹی کے اندر اس تعلق سے حمایت ملنے کے امکانا ت نہیں ہیں۔
کیا جنتادل کا امیدوار ہوگا!: سیاسی حلقوں میں کینرا سیٹ کے لئے کانگریس پارٹی کے پارلیمانی امیدوار کے طور پر جو نام سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آرہا ہے ، وہ راجیہ سبھا کے رکن بی کے ہری پرساد کا ہے۔لیکن مخلوط ریاستی حکومت کی ایک فریق پارٹی جنتادل ایس کی طرف سے اپنے لئے پارلیمانی انتخابات میں 12 نشستیں دینے کا مطالبہ کانگریس ہائی کمان سے کیا گیا ہے۔اس وجہ سے کانگریسی لیڈروں کے ذہن میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ کہیں شمالی کینرا کی سیٹ پر جنتادل کی نظریں نہ ہوں اور ان 12سیٹوں میں اس حلقے کا مطالبہ بھی شامل نہ ہو۔لہٰذا ہری پرساد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے کانگریس اور جنتا دل کو اپنی سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ حل کر لینے دو ، اس کے بعد ہی ہری پرساد انتخاب میں اترنے یا نہ اترنے کا فیصلہ کریں گے۔
ہری پرساد مضبوط دعویدار...مگر: کانگریس کے سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اگر اس انتخاب میں بی جے پی کو شکست دینی ہے تو پھر پسماندہ طبقے سے کسی کو امیدوار بنانا ہوگا۔ اسی نقطۂ نظر سے کانگریس پارٹی پسماندہ طبقے سے ہی امیدوار کی تلاش میں ہے۔اس لحاظ سے راجیہ سبھا رکن بی کے ہری پرساد ایک مناسب ترین امیدوار ہیں۔ لیکن کانگریس کو ڈر ہے کہ ان کے خلاف بی جے پی یہ پروپگنڈہ کرے گی کہ ہری پرساد ضلع شمالی کینرا سے باہر کے امیدوار ہیں۔ اس منفی پہلو سے تشہیر کا نقصان کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ چونکہ ہری پرساد کانگریس ہائی کمان کے ساتھ بہت قریبی روابطہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کے انتخاب جیتنے کی صورت میں ضلع شمالی کینرا میں آر وی دیشپانڈے کی گرفت کانگریسی لیڈروں اور ضلع کمیٹی پر کمزور پڑجائے گی۔
کیا جے ڈی نائک ہوں گے امیدوار؟: اس پہلو پر غور کریں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ کانگریسی امیدوار بننے کے زیادہ امکانات اسی کے حق میں ہیں جو کہ دیشپانڈے کیمپ سے تعلق رکھتا ہو، اور اسی کے لئے زیادہ کوشش بھی ہونے والی ہے۔اس کے علاوہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ساتھ بھی بی کے ہری پرساد کے تعلقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ایسے میں دیشپانڈے کی مرضی اور کوشش کو زیادہ ترجیح ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ان سب حالات کے پیش نظر نامدھاری طبقے کے بھیمنّا نائک اور جے ڈی نائک کے نام امیدوار کے بطور ابھرنے لگے ہیں۔اور زیادہ توقع اس بات کی ہے کہ اگر جنتا دل کی طرف سے کینرا سیٹ کا مطالبہ نہیں ہوتااور یہ سیٹ وہ کانگریس کے لئے چھوڑ دیتی ہے تو پھر ہری پرساد کے نام پر غور نہ ہونے کی صورت میں جے ڈی نائک کو ہی امیدوار بنایا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔ضلع کے سیاسی حالات میں بدلتے ہوئے تازہ حالات کو دیکھ کراس بات کا قوی امکان پید ا ہوگیا ہے کہ شاید کینرا پارلیمانی سیٹ پر سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کوہی کانگریس اپنا امیدوار بنائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ بطور امیدوار کانگریسی لیڈروں کے سامنے ان کے نام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ یہ سیاسی اونٹ اب کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔